برصغیر ہِند کی جدید تاریخ میں سیاسی آزادی کے حصول کے لیے جدوجہد کے دوران دو قومی نظریہ نے فروغ پایا، جس کا مطلب تھا کہ اس سر زمین میں ہندوئوں اور مسلمانوں کی صورت میں دو قومیں آباد ہیں، جن کے تمدنی اختلافات بڑھتے چلے گئے۔ یہاں تکـ کہ ہندوئوں نے دیوناگری رسم الخط میں ’ہندی‘ کو اپنی زبان اور مسلمانوں نے نسخ یا نستعلیق رسم الخط میں ’اُردو‘ کو اپنی زبان قرار دیا۔ ان دو قوموں کے درمیان سیاسی اقتدار کی تقسیم کا کوئی معاہدہ طے نہ پاسکا، اس لیے جِن خِطوں میں مسلمانوں کی اکثریت تھی وہاں انہوں نے علیٰحدہ ریاستـ قائم کرلی۔ پس یوں پاکستان مسلم قوم کے وطن کی حیثیتـ سے وجود میں آیا۔
نظریۂ پاکستان دراصل پاکِستان میں آباد مسلمانوں کی قومیت کا تصوّر ہے جس کی اساس علاقہ، زبان یا نسل کے اشتراکـ کی بجائے روحانی مطمح نظر کے اشتراکـ یعنی اسلام پر قائِم ہے۔ اسی طرح ’اُردو‘ ان کی قومی زبان ہے جو پاکستان کے کسی علاقہ کی زبان نہیں مگر مسلمانوں کی زبان سمجھی جاتی ہے۔ پاکِستان نہ تھیوکریسی (مذہبی پیشوائوں کی حکومت) ہے نہ ’سیکولر‘ (لادین) ریاست، بلکہ ایک ایسی علاقائی ریاست ہے جو اسلام کے ان اصولوں یعنی جمہوریتـ ، آزادی، مساوات رواداری اور سماجی انصاف پر قائم ہے جن کی وضاحتـ قراردادِ مقاصد میں کی گئی ہے۔
ان اصولوں کے تحتـ پاکستان وفاقی پارلیمانی طرز کی فلاحی جمہوری ریاست ہے جو مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو اسلام کے اصولوں کے مطابق ڈھالنے کی سعی کرے گی اور اس طرح اقلیتوں کو بھی اپنے اپنے مذہبی عقائد کے مطابق زندگی بسر کرنے کی سہولت فراہم کرےگی۔
حقوق بشر کے تحفظ کی ضمانت دے گی۔ قانون کی حاکمیت کی علمبردار ہوگی۔ بِلا تمیز مذہب تمام شہریوں کی فلاح و بہبود کی خاطر خوردونوش، بودوباش، تعلیم اور طبّی امداد جیسے شعبوں میں ایسے قوانین نافذ کرے گی جو سبـ کے لیے بہتری کا باعث بنیں۔ تمام شہریوں میں یک جہتی برابری اور رواداری کے جذباتـ کو فروغ دے گی۔ مسلم ممالک کے اتحاد کے لیے کوشاں رہے گی اور مسلم اقوام مثلاً فلسطین اور کشمیر اپنی آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں ان کی حمایت کرے گی۔ ہر ملک کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھائے گی اور جہاں کہیں اختلافات ہوں انہیں گفت و شنید کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔